بنگلورو۔20نومبر(ایس او نیوز)بنگلور واٹر بورڈ کے چیئرمین توشادگری ناتھ نے کہا کہ مانسون کی بارش کی کمی کی وجہ سے کاویری ندی میں پانی کی کمی اور کرشنا راجا ساگر ( کے آر ایس) میں پانی کی سطح میں بتدریح کمی کی وجہ سے شہر میں جنوری تا مئی پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اس کو دور کرنے کیلئے واٹر بورڈ نے ضروری اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کے لئے ہر دن 1375ملین لیٹر پانی کی ضرورت ہے اور شہر صرف کاویری ندی کے پانی پر ہی منحصر ہے ۔ بار ش کی کمی کی وجہ سے اس مرتبہ پانی کی قلت بہت زیادہ ہونے کا امکان ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بورڈ پہلے ہی پانی کی قلت کے تعلق سے مکمل سروے کراچکا ہے ۔ جس کے تحت کم از کم 5ماہ پانی کی قلت پیدا ہوسکتی ہے۔مسٹر توشادنے بتایا کہ بورڈ نے بروہت بنگلور مہا نگر پالیکے ( بی بی ایم پی) کی ملکیت کے 7920بورویلوں کو اپنے قبضہ میں لے کر ان کی مرمت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور نجی ٹینکروں کے مالکان کے ساتھ بورڈ معاہدہ کرکے ٹینکروں کے ذریعہ پانی فراہم کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ جن بورویلوں میں پانی دستیاب ہے وہاں پرانے پائپ نکال کر نئے پائپ بچھائے جائیں گے جس سے پانی کے خارج ہونے کے سطح میں کمی آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بی بی ایم پی کی حدود میں شامل شدہ 110دیہاتوں میں بھی پانی اور نالیوں کی سہولت فراہم کرنے کیلئے تعمیراتی کام شروع کیا گیا ہے ۔ کاویری ندی سے ہر دن 1400ایم ایل ڈی پانی کی فراہمی ہورہی ہے۔ لیکن اس میں لگ بھگ 50فیصد پانی کا حساب نہیں مل پارہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پانی کے خارج کو روکنے کیلئے 800کروڑ روپئے کا ایک منصوبہ تیار کرکے اس کی ذمہ داری ایل اینڈ ٹی کمپنی کو سونپی گئی ہے ۔ لیکن مذکورہ کمپنی صحیح طریقہ سے کام نہیں کر پارہی ہے ۔ جس سے کئی مقامات پر پانی زیادہ مقدار میں خارج ہورہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پانی کے خارج کی روک تھام کیلئے ایل اینڈ ٹی اور ایس پی ایم سی کمپنی کو کنٹراکٹ دیا گیا تھا ۔ مذکورہ دونوں کمپنیوں کو تین پیکیجوں میں کنٹراکٹ دیا گیاتھا۔ جس میں ایل اینڈ ٹی کمپنی نے اپنے ایک پیکیج کا کام مکمل کرلیا ہے ۔ جبکہ ایس پی ایم سی کمپنی پہلے پیکیج کے تعمیراتی کام مکمل کرنے کے آخری مرحلہ میں ہے ۔ مسٹر توشار نے مزید بتایا کہ وارڈ سطح پر لگ بھگ 300کروڑ کے تعمیراتی کاموں کو شروع کیا گیا ہے اور اگلے ماہ دسمبر کے آخر میں تمام کاموں کو مکمل کرلیا جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ وارڈ سطح پر پانی کی قلت کو دور کرنے کے تعلق سے ہر دن دوپہر ڈھائی بجے سے 5:30بجے تک تمام افسران کو وارڈ بورڈ دفاتر اور سرویس سنٹرز میں موجود رہنے کیلئے ہدایت جاری کی گئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہر ماہ بی بی ایم پی اور واٹر بورڈ افسران کا اجلاس ہوگا جس میں پانی کی قلت کے تعلق سے تبادلہ خیال اور بحث ہوگا۔تشار گری ناتھ نے اعتراف کیا کہ وال مین اورمیٹر ریڈرز رشوت حاصل کرکے چند علاقوں میں ہی پانی کی مؤثر سربراہی کرنے لگے ہیں جس سے شکایتیں انہیں موصول ہونے لگی ہیں ،ان شکایتوں کو دور کرنے کے مقصد سے وال مین اور میٹر ریڈرز کوایک جگہ سے دوسری جگہ تبادلہ کیا جارہا ہے۔